کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 383
وَنَوْمَہٗ، فَاِذَا قَضٰی اَحَدُکُمْ نَہْمَتَہٗ مِنْ وَجْہِہٖ فَلْیُعَجِّلِ الرُّجُوْعَ اِلَٰی اَہْلِہٖ )) [1] ’’سفر عذاب کا ایک حصہ ہے، وہ تم میں سے ہر کسی کو (بروقت) کھانے پینے اور نیند (و آرام کرنے) سے روکتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی شخص (سفر کا باعث بننے والی) ضرورت پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ پھر جلد اپنے اہلِ خانہ کی طرف لوٹ جائے۔‘‘ سفر میں سہولتیں: سفر انسانی زندگی کا ایک جزء ہے اور مذکورہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے یہ باعثِ مشقّت بھی ہوتا ہے۔ آج چاہے سفر کی بے شمار سہولتیں مہیا ہیں مگر مجموعی طور پر مشقّتِ سفر ایک حقیقت ہے۔ ہمارے دینِ اسلام کا یہ امتیاز ہے کہ یہ دینِ فطرت ہے اور انسانی احوال کے مطابق ہی احکام دیتا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سفر کی مشقّتوں کے پہلو کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ کریم میں اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ شریفہ میں اپنے ماننے والوں کو بہت سی آسانیاں عطا کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ دورانِ سفر چار فرضوں والی نمازوں کی صرف دو رکعتیں پڑھ لے۔ ظہر و عصر اور پھر اسی طرح مغرب و عشا کو جمع کر کے کسی ایک کے وقت ہی میں دونوں کو ادا کر لے تو اس کا فرض ادا ہو گیا۔ نمازوں کی متعلقہ مؤکدہ و غیر مؤکدہ سنّتیں نہ پڑھے تو کھلی رخصت ہے۔ البتہ فجر کی سنّتیں اور نمازِ وتر سفر کے دوران میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ لیا کرتے تھے جو ان دونوں کی فضیلت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح سردیوں کے موسم میں مقامی آدمیوں کے [1] الفتح الرباني (۵/ ۵۴) ضعیف الجامع الصغیر (۳/ ۲۰۵) سلسلۃ الأحادیث الضعیفہ (۱/ ۲۷۸) [2] الفتح الرباني (۵/ ۵۴) [3] ضعیف الجامع الصغیر (۳/ ۲۰۵) سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ (۱/ ۲۷۸)