کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 377
ظنِ غالب پر ہی بنیاد رکھے، اور اگر کوئی پہلو بھی ظنِ غالب سے راجح محسوس نہ ہو تو پھر کم پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے اور بعد دونوں طرح ہی ثابت ہے اور اس بات پر تمام ائمہ و فقہا کا اتفاق ہے۔ البتہ افضلیت میں اختلاف ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین اور ائمہ و فقہا رحمہم اللہ نے سجدۂ سہو کے وقت کے بارے میں مختلف مذاہب اختیار فرمائے ہیں۔ سجدۂ سہو کا موقع ومقام، مختلف اقوال میں: علامہ عراقی رحمہ اللہ کی شرح الترمذی سے نقل کرتے ہوئے امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں مندرجہ ذیل دس اقوال بیان کیے ہیں: 1- پہلا یہ ہے کہ سہو چاہے کیسا بھی ہو، سجدۂ سہو سلام کے بعد ہی کرنا ہوگا۔ متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین رحمہم اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ان کا استدلال ان احادیث سے ہے جن میں سلام کے بعد سجدۂ سہو کا ذکر آیا ہے۔ 2- اس سلسلے میں دوسرا قول یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہے۔ یہ بھی متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ، اکثر فقہائے مدینہ، علمائے حدیث اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول (جدید) ہے۔ ان کا استدلال ان احادیث سے ہے، جن میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کا ذکر آیا ہے۔ 3- اس مسئلے میں تیسرا قول یہ ہے کہ جہاں نماز میں کمی ہو، وہاں سلام پھیرنے سے پہلے اور جہاں نماز میں زیادتی ہو، وہاں سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا جائے گا۔یہ امام مالک، مزنی، ابو ثور اور ایک قول کے مطابق امام شافعی رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس طرح دونوں قسم کی احادیث پر اُن کے موقع و محل کے مطابق عمل ہو جائے گا اور کسی حدیث کے منسوخ ہونے کے [1] مشکاۃ (۳/ ۲۹) صحیح البخاري (۳/ ۱۰۳) الفتح الرباني (۴/ ۱۳۰) [2] الفتح الرباني (۴/ ۱۳۱۔ ۱۳۲) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۱۱۳) سنن الترمذي (۲/ ۴۱۹) شرح السنۃ (۳/ ۲۸۲) مشکاۃ (۳/ ۴۱) وصححہ الألباني (۱/ ۳۲۲)