کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 375
پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔۔۔ الخ۔[1] 2- سہو کی دوسری صورت یہ ہے کہ نماز کی رکعتیں زیادہ پڑھ لی جائیں۔ جیسا کہ بخاری و مسلم، سننِ اربعہ، مسند احمد اور بعض دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نمازِ ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا نماز زیادہ ہوگئی ہے؟ فرمایا: ’’کیا بات ہے؟‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔[2] 3- سہو کی تیسری شکل یہ ہے کہ نمازی قعدۂ اولیٰ یا تشہّدِ اوّل کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور بیٹھنے کے بجائے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ چنانچہ صحیحین و سننِ اربعہ ، مسند احمد، موطأ امام مالک اور بیہقی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کی دوسری رکعت کے بعد تشہّد پڑھے بغیر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے اور سلام پھیرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔[3] جبکہ ابو داود، ابن ماجہ، مسند احمد، دارقطنی اور بیہقی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص دوسری رکعت میں قعدہ کیے بغیر کھڑا ہونے لگے، لیکن اگر وہ پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو تو اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے، اس پر کوئی سجدہ سہو لازم نہیں اور کھڑا ہو چکا ہو تو اسے چاہیے کہ پھر نہ بیٹھے، بلکہ آخر میں سہو کے دو سجدے کر لے۔[4] [1] فقہ السنۃ (۱/ ۲۶۶) نیل الأوطار۲/ ۳/ ۱۱۲)