کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 373
سجدۂ سہو کوئی نماز فرض ہو یا سنّت و نفل، چاہے وہ نمازِ وتر ہو، سوائے نمازِ جنازہ کے، جس نماز میں بھی نمازی سے کچھ بھول چوک ہو جائے اور وہ بھول بھی ایسی ہو کہ نماز کا کوئی رکن نہ چھوٹا ہو، مثلاً قیام یا رکوع و سجود ہی نہ چھوٹ جائیں کہ جن کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی اور جن کو ادا کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار ہی نہیں۔ بعض دیگر امور میں بھول ہو جائے تو اس کا ازالہ نماز کے آخر میں دو سجدے کرنے سے ہو جاتا ہے، جنھیں ’’سجدۂ سہو‘‘ کہا جاتا ہے۔ نماز کو پوری توجہ سے ادا کرنا اور اِدھر اُدھر کے خیالات سے بچنا باعثِ فضیلت و اجر ہے، لیکن اس کے باوجود بھی انسان سے بھول چوک ممکن ہے۔ عام انسان تو کجا، خیر البشر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض اوقات نماز میں بھول ہو جایا کرتی تھی، جس کا اندازہ صحیح احادیث میں مذکور متعدد واقعات سے ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَاِذَا نَسِیْتُ فَذَکِّرُوْنِیْ )) [1] ’’میں بھی تمھاری طرح کا ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو ، مَیں بھی بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دہانی کرا دیا کرو۔‘‘ صحیح مسلم میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح البخاري مع الفتح (۲/ ۳۳۳)