کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 371
دوسر اہے، لیکن وہاں باقاعدہ سلام پھیرنے کا تذکرہ آیا ہے، حتیٰ کہ صاحبِ ہدایہ اور صاحب نصب الرایہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ یہ بات ہم بالتفصیل رفع الیدین کے مسئلے میں بھی ذکر کر آئے ہیں، لہٰذا اس سے ممانعتِ رفع یدین کا مسئلہ نکالنا محض تحکّم اور سینہ زوری ہے۔ مسبوق کب کھڑا ہو؟ بعض کے نزدیک مسبوق اُس وقت اٹھے جب امام دونوںطرف سلام پھیر لے۔ دونوں سلاموںکو واجب ماننے والوں کے نزدیک اور امام احمد رحمہ اللہ کے دونوں سلاموں کو محبوب قرار دینے کی شکل میں تو یہی صحیح ہے کہ جب تک امام دونوں طرف سلام نہ پھیر لے اس وقت تک مسبوق مقتدی بقیہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑا نہ ہو۔ البتہ جن کے نزدیک پہلا سلام واجب ہے اور صرف اسی ایک پر ہی اکتفا کرنا بھی صحیح ہے اور دوسرا سلام محض سنّت و مستحب ہے، ان حضرات کے نزدیک امام کے دائیں جانب سلام پھیر لینے کے ساتھ ہی مسبوق کو کھڑے ہو جانا چاہیے۔ سلطان العلماء علامہ العزبن عبدالسلام نے اپنے فتاویٰ میں اس ثانی الذکر ہی کو اوّلیت دی ہے۔[1] سلام پھیرنے کے بعد امام کے لیے ہدایت: جب امام و مقتدی سب سلام پھیر لیں تو امام کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ مقتدیوں کی طرف منہ پھیر لے اور قبلہ رو نہ بیٹھا رہے، کیوں کہ صحیح بخاری شریف اور بعض دیگر کتبِ حدیث میں اس موضوع کی کئی احادیث ہیں، جن میں سے تین تو امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’باب یستقبل الإمام الناس إذا سلّم‘‘ میں وارد کی ہیں، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: [1] صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۵۲) صحیح أبي داوٗد (۱/ ۱۸۷) صحیح نسائي (۱/ ۲۸۴۔ ۲۸۶) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۶۱) الفتح الرباني (۴/ ۴۲۔ ۴۴) معاني الآثار للطحاوي (ص: ۱۵۸) نصب الرایۃ (۱/ ۴۳۲) صحیح الجامع (۳/ ۵/ ۱۴۶)