کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 368
مطابق ایک روایت میں امام احمد کا، اور ’’شرح ابن قاسم الغزي‘‘ (۱/ ۴۳۱۔ باجوری) کے مطابق شافعیہ کا مسلک یہ ہے کہ جنازے میں دو سلام ہیں۔[1] جبکہ دیگر ائمہ و فقہا کے نزدیک ایک سلام پر اکتفا بھی جائز ہے، جیسا کہ تفصیل گزری ہے۔ جبکہ جنازہ کے علاوہ عام نمازوں کے سلسلے میں جمہور اہلِ علم دو سلاموں کے ہی قائل ہیں، البتہ جن حضرات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین اور ائمہ وفقہا رحمہم اللہ ایک ہی سلام پر کفایت کے قائل تھے۔ اور یہ عمل بھی مسلسل نہیں بلکہ غالب اوقات میں دو سلام اور کبھی کبھی ایک کی صورت میں ہے۔ بقول امام بیہقی یہ اختلاف مباح کی قبیل اور جائز پر اکتفا کی قسم سے ہے۔ دو سلاموں کے قائلین میں سے حضرت ابوبکر صدیق، علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم ، اسی طرح نافع بن عبدالحارث، علقمہ، ابو عبدالرحمن سلمی، عطاء، شعبی، ثوری، شافعی، اسحاق بن راہویہ، ابن المنذر رحمہم اللہ اور اہل رائے (احناف) بھی ہیں۔[2] وجوباً یا استحباباً دونوں طرف ہی پھیرنا چاہیے۔ یہی امام احمد کے نزدیک محبوب ترین بات ہے۔ ہاں اگر کبھی کبھی صرف ایک ہی سلام پر اکتفا کر لیں تو بھی نماز صحیح ہے۔ امام ابن المنذر کے بقول ایک سلام واجب اور دوسرا سنت ہے۔[3] مقتدی کے سلام پھیرنے کا وقت: یہاں اس بات کی وضاحت بھی کر دیں کہ جب نماز باجماعت ادا کی جارہی ہو اور امام سلام پھیرے تو مقتدیوں کو کب سلام پھیرناچاہیے؟ [1] مستدرک حاکم (۱/ ۳۶۰ قدیم و ۱/ ۵۱۳ جدید) و سنن البیھقي (۴/ ۴۳) الجنائز للألباني (ص: ۱۲۹) و الإرواء (۲/ ۳۴) [2] المغني (۱/ ۴۸۱) نیل الأوطار (۱/ ۲/ ۲۹۸)