کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 356
اللہ کے اسمِ عظیم (اور ایک روایت میں ہے: اسمِ اعظم) کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب وہ اس نام سے پکار اجائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس نام سے اس سے کچھ مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔‘‘ 7۔ جبکہ مسند احمد و مستدرک حاکم میں اس موقع کے لیے یہ دعا بھی آئی ہے: (( اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا )) [1] ’’اے اللہ! میرا حساب آسان کر دے۔‘‘ 8۔ سنن نسائی میں صحیح سند سے اور کتاب السنہ میں ابن ابی عاصم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے سے پہلے یہ دعا کیا کرتے تھے: (( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْمَلْ )) [2] ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان برائیوں کے شر سے جو مَیں نے کی ہیں اور ان (نیکیوں) کی برائی سے بھی جو مَیں نہیں کر سکا۔‘‘ 9۔ ایسے ہی اس موقع پر قرآنِ کریم کی دعائیں بھی کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ایک دعا تو اس مقام کے لیے بہت معروف اور معمول بہٖ ہے، جو سورت ابراہیم کی [آیت: ۴۰۔ ۴۱] میں ہے: ﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ﴿٤٠﴾ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ’’اے میرے پروردگار! مجھے اور میری اولاد کو نماز پڑھنے والا بنا دے، اور اے ہمارے پروردگار! ہماری دعا قبول کر۔ اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو روزِ حساب (یومِ قیامت) بخش دیجیو!‘‘ [1] الأدب المفرد وصححہ الألباني في الصلاۃ (ص: ۱۱۲) صحیح النسائي (۱/ ۲۷۹)