کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 349
(( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ (النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ) وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی (آلِ) اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ (النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ) وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی (آلِ) اِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ )) [1] ’’اے اللہ! ہمارے نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (اَن پڑھ نبی) پر درود بھیج اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل پر بھی، جس طرح کہ تو نے ابراہیم (u) (اور ان کی اولاد) پر درود بھیجا۔ اور اے اللہ ! (نبیِ اُمّی) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پربرکتیں نازل فرما، جس طرح کہ تو نے ابراہیم (uاور ان کی اولاد) پربرکتیں نازل فرمائیں دونوں جہانوں میں، بے شک تو تمام تعریفوں والا اور صاحبِ مجد و ثنا ہے۔‘‘ ایسے ہی پانچ صیغے اور بھی ہیں، لیکن ہم یہاں انہی پر اکتفا کر رہے ہیں۔[2] افضل ترین صیغہ: یہ درود شریف کے چند صیغے مختلف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور یہ سب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ ان میں سے نماز میں اور نماز کے باہر ہر ایک کو پڑھا جا سکتا ہے۔ البتہ ان میں سے افضل کون سا ہے ؟ اس سلسلے میں اہلِ علم کے مختلف اقوال ہیں۔ ان میں سے معروف ترین صیغہ تو وہی ہے جو ہم نے سب سے پہلے ذکر کیا ہے، لیکن چونکہ تیسرا اور چوتھا صیغہ ایسا ہے کہ انھیں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود پڑھا کرتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے صلوٰۃ یا درود شریف کے بارے میں سوال و استفسار [1] الفتح الرّباني (۴/ ۲۶۔ ۲۷) و صفۃ الصلاۃ (ص: ۹۸۔ ۹۹)