کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 345
اصولِ ترجیح کی رو سے یہی صحیح تر بات ہے، کیوں کہ کسی مسئلے میں جب ائمہ و فقہا کے اقوال مختلف ہوں تو ترجیح اس قول کو دی جاتی ہے جو اقرب الی النصوص ہو نہ کہ اسے جو ’’أقرب إلی العقل و الرأی‘‘ ہو۔ اس میں شک نہیں کہ غیر منصوص مسائل میں اجتہاد تو باعثِ اجر و ثواب ہے اور نصوص سے مسائل کے استنباط میں بھی نتائج مختلف ہو جاتے ہیں، جیسا کہ اس اشارہ والے مسئلے میں ہے، ایسی صورت میں جو بات راجح ہو، اس پر عمل کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ ایسے مسائل میں کسی ایک صورت کو اپنانے پر اصرار کرنا اور اسی مسئلے کے دوسرے رخ کو باطل قرار دینا تحقیقِ علمی کے خلاف ہے، کیوں کہ ایسا صرف منصوص مسائل ہی میں ہونا چاہیے۔ درود شریف سے متعلقہ مسائل جب تشہدّ سے فارغ ہوں تو پہلے قعدہ کی طرح ہی دوسرے قعدہ میں بھی درود شریف پڑھنا چاہیے، جس کے متعدد صیغے صحیح اَسناد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، جن میں سے بعض صیغے ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں اور صیغوں کے آخر میں یہ بھی ذکر آ رہا ہے کہ ان میں سے کسی بھی صیغے کو پڑھ لیں صحیح ہے، البتہ مختلف ائمہ و علماکے نزدیک افضل صیغہ بھی الگ الگ ہے۔ [1] للتفصیل: المغني، عون المعبود، سبل السلام، المرعاۃ، تحفۃ الأحوذي، صفۃ الصلاۃ، فقہ الصلاۃ (۳/ ۶۳۸ تا ۶۵۵)