کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 338
’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ۔۔۔ اور ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ بنایا۔۔۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی اٹھائی، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہلا رہے تھے اور دعا مانگ رہے تھے۔‘‘ چوتھی حدیث: صحیح مسلم و نسائی، مسند احمد اور بعض دیگر کتب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں: (( کَانَ اِذَا جَلَسَ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ اَصَابِعَہٗ کُلَّہَا وَاَشَارَ بِاِصْبَعِہِ الَّتِیْ تَلِی الْاِبْہَامَ [فَدَعٰی بِہَا] )) [1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھتے اور اس کی انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے (اور دعا مانگتے)۔‘‘ پانچویں حدیث: صحیح مسلم، بیہقی و سنن دارقطنی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے: (( ۔۔۔ کَانَ۔۔۔ اِذَا قَعَدَ یَدْعُوْ۔۔۔ اَشَارَ بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ وَوَضَعَ اِبْہَامَہٗ عَلٰی اِصْبَعِہِ الْوُسْطٰی )) [2] ’’۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کے لیے بیٹھتے ۔۔۔ تو انگشتِ شہادت سے اشارہ کرتے اور انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے تھے۔‘‘ [1] صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۸۰) مشکاۃ (۲/ ۴۶۶، ۴۶۸) [2] حوالہ جاتِ سابقہ و سنن البیھقي (۲/ ۱۳۰) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۵۵) أبي عوانۃ (۲/ ۲۲۵) مسند أحمد (۲/ ۱۴۷) [3] سنن البیھقي (۲/ ۱۳۲) صحیح ابن حبان۔ الموارد (۱۵/ ۴) والإحسان (۵/ ۱۷۰) مشکاۃ (۱/ ۲۸۷) وصححہ الألباني و محققو، زاد المعاد (۱/ ۲۵۵) المنتقیٰ مع النیل (۲/ ۳/ ۱۳۵) مشکاۃ مع المرعاۃ (۲/ ۴۷۸، ۴۷۹) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۵۴)