کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 335
بوقتِ تورّک بائیں ہتھیلی کی کیفیت: تورّک کی شکل میں عام قعدہ یاافتراش کی نسبت معمولی سا فرق ہے۔ وہ یوں کہ بائیں ہاتھ کا پنجہ اس طرح گھٹنے پر ہوگا، گویا گھٹنے کو اوپر سے پکڑا ہوا ہے اور اسی کی طرف مائل رہیں، گویا اپنا بالائی بوجھ بھی اس پر ہی ڈالا ہوا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم و ابی عوانہ، ابو داود، نسائی اور دارقطنی میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: (( ۔۔۔ کَانَ یُلْقِمُ کَفَّہُ الْیُسْرٰی رُکْبَتَہٗ وَیَتَحَامَلُ عَلَیْہَا )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے بائیں گھٹنے کو پکڑ کر رکھتے اور اس کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔‘‘ رکنیتِ قعدۂ اخیرہ اور وجوبِ تشہّدِ اخیر: یہ دوسرا تشہّد اور اس کے لیے قعدہ کرنا واجب، بلکہ نماز کا رکن ہے جس کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی۔ تشہّد کو حضرت عمر، عبداللہ بن عمر، ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہم حضرت حسن بصری، امام احمد و امام شافعی رحمہم اللہ اور ان کے موافقین اور ایک روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے واجب کہا ہے اور جمہور کا یہی مسلک ہے۔ اِخفائے تشہّد: قعدۂ اخیرہ میں جو تشہّد وغیرہ پڑھا جاتا ہے، وہ امام و مقتدی اور منفرد سب کے لیے سرّی و جہری ہر نماز ہی میں بلا آواز پڑھنا مسنون ہے، جس کے دلائل بھی قعدۂ اولیٰ یا تشہّدِ اوّل کے ضمن میں ذکر کیے جاچکے ہیں۔ بسم اللہ کے بغیر: قعدۂ اولیٰ ہو یا اخیرہ، اس میں تشہّدو التحیّات شروع کرنے سے پہلے بعض [1] التعلیق الممجد (ص: ۱۱۳) و تحفۃ الأحوذي (۲/ ۱۸۰)