کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 330
دائیں کو کھڑے رکھا۔ لیکن یہ حالت کس قعدہ میں تھی؟ اس کا ذکر نہیں ہے۔ نہ پہلے کا ذکر ہے نہ دوسرے کا۔ گویا یہ ایک مطلق حدیث ہے، جبکہ حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح بخاری اور دیگر کتب والی حدیث مقیّد ہے۔ اس میں پہلے قعدہ اور دوسرے قعدہ کا باقاعدہ تذکرہ اور دونوں میں الگ الگ انداز سے بیٹھنے کا ذکر وارد ہوا ہے۔ لہٰذا حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی اس مطلق حدیث کو حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ والی مقیّد حدیث پر محمول کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ اس میں قعدۂ اولیٰ کا ذکر وارد ہوا ہے۔ اس بات کی تائید سنن نسائی میں حضرت وائل رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے: (( وَاِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ اضْطَجَعَ الْیُسْرٰی وَنَصَبَ الْیُمْنٰی )) [1] ’’اور جب دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیا تو بائیں پاؤں کو بچھا لیا اور دائیں کو کھڑا کر لیا۔‘‘ ان الفاظ سے واضح ہو گیا کہ حضرت وائل رضی اللہ عنہ والی حدیث سے مراد پہلا قعدہ ہے نہ کہ دونوں قعدے۔ اسی طرح دونوں طرح کی حدیثیں یکجا معمول بہٖ بھی ہو جاتی ہیں اور ان کے مابین مطابقت پیدا ہو جاتی ہے، جو یہاں ضروری بھی ہے، تاکہ ان کے مابین پیدا ہونے والا تعارض ختم کیا جا سکے۔ 2- اسی طرح صحیح مسلم، ابی عوانہ، ابو داود، ابن ماجہ، بیہقی، طیالسی، ابن ابی شیبہ اور مسنداحمد میں مروی اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کے ان الفاظ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، جن میں وہ فرماتی ہیں: (( وَکَانَ یَقُوْلُ فیْ کُلِّ رَکْعتَیْنِ التَّحِیَّۃَ وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی وَکَانَ یَنْہٰی عَنْ عُقْبَۃِ الشَّیْطَانِ۔۔۔ الخ )) [2] [1] سنن أبي داوٗد (۲/ ۲۳۶) سنن الترمذي مع التحفۃ (۲/ ۱۷۷) سنن النسائي (۱/ ۱/ ۱۴۸۔ ۱۴۹ مع التعلیقات السلفیۃ) [2] التحفۃ (۲/ ۱۸۰) العون (۳/ ۲۴۵)