کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 328
’’جب دو رکعتوں کے بعد قعدہ کرتے تو بائیں پاؤں (کو موڑ کر اُس) پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا رکھتے، پھر جب چوتھی رکعت (آخری) ہوتی تو بائیں سرین پر بیٹھتے اور دونوں قدموں کو ایک (دائیں) طرف نکال دیتے تھے۔‘‘ تیسرا طریقہ: تورّک کا تیسرا طریقہ صحیح مسلم و ابو عوانہ، ابو داود، نسائی اور دارقطنی میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث میں ہے: (( کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اِذَا قَعَدَ فِی الصَّلٰوۃِ جَعَلَ قَدَمَہُ الْیُسْرٰی بَیْنَ فَخِذِہٖ وَسَاقِہٖ وَفَرَشَ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی۔۔۔ الخ )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری قعدہ کرتے تو اپنے بائیں پاؤں کو دائیں ران اور پنڈلی کے درمیان کر دیتے اور دایاں پاؤں بھی بچھا لیتے تھے۔‘‘ جبکہ ان تینوں میں سے معروف طریقہ وہی ہے جو صحیح بخاری اور دیگر کتب کے حوالے سے ہم نے پہلے نمبر پر ذکر کیا ہے۔ جزئیات میں اختلافِ رائے: امام احمد، مالک اور شافعی رحمہم اللہ سمیت (سوائے احناف کے) جمہور اہلِ علم اس تورّک کی مشروعیت بلکہ سنّیت کے قائل ہیں، البتہ جزئیات میں کچھ اختلاف ہے۔ مانعینِ تورّک: امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ، امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور فقہائے احناف کے نزدیک بائیں پاؤں کے اوپر بیٹھنا ہی افضل ہے۔ [1] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۵) مشکاۃ مع المرعاۃ (۲/ ۲۴۹، ۲۵۲) زاد المعاد (۱/ ۲۵۳) مشکاۃ (۱/ ۲۴۸ للألباني) سنن أبي داود مع العون (۳/ ۲۴۲۔ ۲۴۳) [2] سنن النسائي (۱/ ۱/ ۱۴۸) مـشکاۃ مع المرعاۃ (۲/ ۳۰۵) و بتحقیق الألباني (۱/ ۲۵۰) التحفۃ (۲/ ۱۸۰) زاد المعاد (۱/ ۲۵۲، قوّاہ الأرناؤوط لطرقہٖ) مسند أحمد (۵/ ۴۲۴) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۴۷) وعزاہ إلی البخاري، کتاب الأذا (۱۴۵) الموارد، رقم الحدیث (۴۹۱) سنن البیہقي۔