کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 326
میں جو دعائے قنوتِ وتر کی جاتی ہے ، وہ رکوع سے پہلے بھی صحیح و ثابت ہے، البتہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس کے بارے میں بھی قبل و بعد دونوں طرح کا عمل موجود تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے: ’’وَالظَّاہِرُ اَنَّہٗ مِنَ الْاِخْتِلافِ الْمُبَاحِ‘‘[1] ’’یہ جائز و مباح اختلاف میں سے ہے۔‘‘ سجود: رکوع سے فارغ ہوں اور عام حالات ہوں، قنوتِ نازلہ نہ کرنی ہو، تو (رفع یدین کرتے ہوئے) رکوع سے اٹھیں اور قومہ کے ذکر سے فارغ ہوں تو سیدھے سجدے میں چلے جائیں اور دو سجدے کریں۔ قومہ سے سجدہ جاتے وقت پہلے زمین پر ہاتھ رکھیں اور پھر ساتھ ہی گھٹنے، جیسا کہ پہلی رکعت کے ضمن میں تفصیل ذکر کی جاچکی ہے۔ قعدۂ اخیرہ: دونوں سجدوں سے فارغ ہوں تو بیٹھ جائیں۔ اس بیٹھنے کو قعدۂ اخیرہ یا تشہّدِ اخیر کہا جاتا ہے اور اس قعدہ کی کیفیت تقریباً وہی ہے جو قعدۂ اولیٰ یا تشہّدِ اوّل کے ضمن میں بالتفصیل ذکر کی جا چکی ہے سوائے تورّک کے۔ تورّک کے طریقے: تورّک کے بارے میں واردہ احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں تورّک کے تین طریقے ذکر کیے ہیں اور تینوں کو احادیث سے ثابت کیا ہے: پہلا طریقہ: ان میں سے پہلا طریقہ اس حدیث میں ہے جو صحیح بخاری، ابو داود، ترمذی، [1] فتح الباري (۲/ ۴۹۱) [2] أیضًا۔ [3] صحیح البخاري، کتاب المغازي (۷/ ۳۸۵)