کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 314
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو رفع یدین کرتے، جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے، جب رکوع سے اٹھتے ہوئے ’’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ‘‘ کہتے تو رفع یدین کرتے اور جب دو رکعتیں مکمل کر کے اٹھتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے۔ اپنے اس عمل کو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرار دیا ہے۔‘‘ ایسے ہی جزء رفع الیدین بخاری، ابو داود اور بقول امام منذری سننِ اربعہ نیز مسند احمد ، دارقطنی، بیہقی، طحاوی، ابن حبان اور ابن خزیمہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے، جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آغازِ نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والی رفع یدین کے بعد آخر میں فرماتے ہیں: (( وَاِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ کَذٰلِکَ وَکَبَّرَ )) [1] ’’اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اسی طرح ابو داود، ترمذی، ابن حبان اور ابن خزیمہ و دارمی میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ والی دس صحابہ رضی اللہ عنہم کے مابین نمازِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان کرنے والی معروف حدیث میں بھی ہے: (( ثُمَّ اِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِيَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ کَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ… )) [2] [1] حوالہ جاتِ سابقہ۔ [2] صحیح البخاري مع الفتح (۲/ ۲۲۲) المشکاۃ مع المرعاۃ (۲/ ۲۸۹) سنن أبي داود مع العون (۲/ ۴۴۲) سنن النسائي (۱/ ۱/ ۱۵۱ مع التعلیقات السلفیۃ) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۴۴) مشکاۃ المصابیح بتحقیق الألباني (۱/ ۲۴۸) تحقیق زاد المعاد (۱/ ۲۴۵) جزء إمام بخاري۔