کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 308
(( ۔۔۔ ثُمَّ اِنْ کَانَ فِیْ وَسَطِ الصَّلَاۃِ نَہَضَ حِیْنَ یَفْرُغُ مِنْ تَشَہُّدِہٖ۔۔۔ )) [1] ’’پھراگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیان والے قعدہ میں ہوتے تو تشہّدپڑھتے ہی کھڑے ہو جاتے تھے۔‘‘ جواب: علامہ سید محب اللہ شاہ صاحب راشدی رحمہ اللہ نے اپنے مقالہ ’’التحقیق المتحلّٰی في ثبوت الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم في القعدۃ الأولٰی‘‘ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے قعدۂ اولیٰ میں درود شریف نہ پڑھنے پر استدلال کرنا صحیح نہیں، کیوں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام ہیں اور ان کا یہ بیان بھی شروع اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قعدہ میں بھی درود شریف پڑھنے کا حکم فرما دیا تھا، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو اور حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث شاہد ہیں (جو قائلین کے دلائل میںگزری ہیں)۔ نیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات میں مختلف انداز اختیار فرمایا کرتے تھے۔ بعض اوقات قعدۂ اولیٰ میں درود شریف پڑھ لیتے اور بعض اوقات چھوڑ دیتے۔[2] دوسری دلیل: سننِ اربعہ، مسند احمد و شافعی، مستدرک حاکم اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت [1] کتاب الأم للشافعي (۱/ ۱۲۱) المجموع شرح المہذب للنووي (۳/ ۴۶۰) ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب (۱/ ۲۸۰) الإفصاح للوزیر کما في الذیل، صفۃ صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم للألباني (ص: ۹۸) کیفیۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لابن باز۔ [2] المحلی لابن حزم (۳/ ۲۷۱) [3] مزید تفصیل کے لیے دیکھیں ہماری کتاب ’’درود شریف: فضائل و مسائل‘‘