کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 305
عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [الأحزاب: ۵۶] ’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ یہ آیت اگرچہ عام ہے، لیکن اس کا تعلق نماز سے بھی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، موطا امام مالک، ابن خزیمہ و ابن حبان، سنن کبریٰ بیہقی، مستدرک حاکم، مسند احمد اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابو مسعود عقبہ بن عَمرو انصاری رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ہمیں سلام کا تو پتا چل چکا ہے: (( فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ (اِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِی صَلَاتِنَا) صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ؟ )) ’’(جب ہم نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا چاہیں) تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے درود پڑھیں؟ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل کرے!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: (( اِذَا اَنْتُمْ صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔۔۔ الخ )) [1] جب تم مجھ پر درود پڑھنا چاہو تو یہ کہو: (( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد۔۔۔ الخ )) ایک دوسری حدیث بھی اسی مفہوم و معنیٰ کی ہے، جو حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے صحیحین، ترمذی، مسند احمد اور بیہقی میں ہے۔[2] [1] ماہنامہ ’’محدّث‘‘ بنارس (ص: ۴۳ عدد مسلسل ۱۰۵، جلد۹، شمارہ ۱۰، ربیع الاوّل ۱۴۱۳ھ بمطابق اکتوبر ۱۹۹۱ء ملخّصاً)