کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 301
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ عمل محض ذاتی اجتہاد نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے توقیف پر مبنی تھا، کیوں کہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں خود اپنی طرف سے کوئی تصرّف کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ ایسا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے قاطع شرکیات و قامع بدعات شخصیت سے سرزد ہو۔ سنن دارمی اور بعض دیگر کتب میں ان کا وہ واقعہ معروف ہے کہ جب کچھ لوگوں نے مسجد میں حلقہ بنا کر ایک شخص کی آواز پر سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا تھا اور ان میں سے ہر شخص کے سامنے کنکریاں رکھی تھیں جنھیں وہ گن رہا تھا تو انھوں نے سختی کے ساتھ اس کی تردید فرمائی تھی۔[1] خصوصاً جبکہ ’’مصنف ابن أبي شیبۃ‘‘ (۱/ ۲۹۴) اور ’’معاني الآثار للطحاوي‘‘ (۱/ ۱۵۷) میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ وہ جب اپنے ساتھیوں کو تشہّدسکھلاتے تو ’’الف‘‘ اور ’’واؤ‘‘ تک میں باقاعدہ مواخذہ کرتے تھے۔ یعنی باریک باریک چیزوں پر بھی توجہ دیتے کہ زیر کا زبر نہ ہونے پائے۔ (( اَلسَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ )) کے تعلیمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند سے امام عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد (( اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ )) کہنا شروع کر دیا تھا۔ اس کی سند بھی حافظ ابن حجر کے بقول صحیح ہے اور علامہ قسطلانی، علامہ زرقانی اور عبدالحی لکھنوی نے بھی ان کی تصحیح پر موافقت کی ہے۔[2] اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اثر بھی مصنف ابن ابی شیبہ، مسند سراج اور فوائد للمخلص میں دو صحیح سندوں سے مروی ہے، جس میں ہے کہ وہ بھی اسی طرح تشہّد سکھلایا کرتی تھیں، جس میں (( اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ )) کے الفاظ ہوتے تھے: [1] فتح الباري وبحوالہ سابقہ أیضاً۔ [2] دیکھیں: شرح الزرقاني (۱/ ۱۸۸) فتح الباري (۲/ ۳۱۴) صفۃ صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۹۶۔ ۹۷)