کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 294
بھی اس موضوع کے ضمن میں ذکر کی گئی سہو والی حدیث ہی سے ہے اور وہ یوں کہ اگر یہ تشہّدِ اوّل واجب ہوتا تو جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تشہّد پڑھے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیسری رکعت کے لیے اٹھتے دیکھ کر سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت بیٹھ جاتے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے نہ کرنا اس کے عدمِ وجوب کی دلیل ہے۔ امام بخاری اور خصوصاً امام ابن حبان کی تبویبات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تشہّدِ اوّل کے عدمِ وجوب کی رائے رکھتے تھے۔[1] حدیثِ سہو سے استدلال کی تردید کرتے ہوئے امام شوکانی نے لکھا ہے کہ یہ تو تب ہے جب یہ مان لیا جائے کہ سجدۂ سہو سے صرف سنتوں کے چھوٹنے ہی کا مداوا ہوتا ہے واجبات کا نہیں، جبکہ یہ بات غیر مسلّم ہے۔[2] اسی طرح عدمِ وجوب کے قائلین کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ نماز اچھی طرح سے نہ پڑھنے والے صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم نہیں فرمایا تھا ، تو اس کے جوابات بھی کئی ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صرف یہ تشہّد ہی نہیں بعض دوسرے امور بھی اس میں نہیں آئے جن کے وجوب پر اجماع ہے، لہٰذا یہ دلیل نہیں بن سکتی۔ اخفائے تشہّد: نمازی اکیلا ہو یا امام و مقتدی ہر شکل میں، اور نماز بلند آواز سے قراء ت والی جہری ہو یا آہستگی سے قراء ت والی سرّی تمام صورتوں میں تشہّدِ اول و اخیر کو سرّی انداز [1] صحیح مسلم (۲/ ۴) ابن حبان (۵/ ۲۸۲۔ ۲۸۴) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۴۹) سنن البیھقي (۲/ ۳۷۷) مصنف ابن أبي شیبۃ (۱/ ۲۹۴) سنن الدارقطني (۱/ ۱/ ۳۵۰) شرح السنۃ (۳/ ۶۷۹) صفۃ صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۹۵) [2] مسند أحمد (۱/ ۴۳۷) الفتح الرباني (۳/ ۵) و ابن حبان (۵/ ۲۸۱) وصححہ أحمد البنّا والأرناؤوط والألباني في الصلاۃ (ص: ۹۵) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۵۶) [3] فتح الباري (۲/ ۳۱۰) [4] نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۱۲۰، طبع الریاض)