کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 277
دوسری رکعت اب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر ثنا یا دُعائے استفتاح (’’سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ‘‘ وغیرہ) نہیں پڑھی جائے گی، کیوں کہ یہ صرف نماز کے آغاز ہی میں مسنون ہے، اس کے بعد نہیں اور اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔[1] تعو ّذ: البتہ تعو ّذ یا اَعوذُ باللہ پڑھنے کے بارے میں دونوں طرح کی آرا پائی جاتی ہیں: 1- پہلی تو یہی معروف رائے ہے کہ تعوّذ صرف پہلی رکعت میں ہے، اس کے بعد سلام پھیرنے تک کسی رکعت میں نہیں ہے۔ اکثر اہلِ علم نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔ امام نووی نے ’’المجموع شرح المہذب‘‘ میں اور امام شوکانی نے نیل الاوطار میں امام عطاء، ابراہیم نخعی، حسن بصری، سفیان ثوری اور ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا یہی قول ذکر کیا ہے۔[2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی تحقیق: علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے صرف پہلی رکعت میں تعوّذ والا قول ہی اختیار کیا ہے۔ المجد ابنِ تیمیہ کا نظریہ: علامہ مجد الدین ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’المُنتقیٰ‘‘ میں ’’افتتاح الثانیۃ [1] دیکھیں: المجموع (۳/ ۴۴۵) الضعیفۃ (۲/ ۳۹۳) [2] سنن أبي داوٗد مع العون (۲/ ۴۳۳ و ۳/ ۶۹) [3] نصب الرایۃ (۱/ ۳۷۰) عون المعبود (۲/ ۴۱۲ و۳/ ۶۹) تہـذیب التہذیب (۶/ ۹۵) بحوالہ تحقیق صلاۃ الرسول (ص: ۲۶۱)