کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 273
علامہ مبارک پوری نے تحفۃ الاحوذی میں لکھا ہے کہ اس سند کے ایک دوسرے راوی صالح بن ابو صالح مولیٰ توأمہ اپنی عمر کے آخری پہر میں اختلاط میں مبتلا ہو گئے۔[1] علامہ زیلعی نے نصب الرایہ میں ترمذی، ابنِ عدی، بخاری، نسائی، ابنِ معین، احمد، حافظ عبدالحق اشبیلی اور ابنِ الجوزی سے اس حدیث کا ضعیف ہونا نقل کیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی قابلِ استدلال نہ ہوئی۔ [2] 3- ایک تیسری دلیل مسنداحمد سے بیان کی جاتی ہے جس میں حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے تمام لوگوں کو بلا کر ایک جگہ جمع کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ سکھاتے ہیں۔ اس میں دونوں سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد مذکور ہے: (( ثُمَّ کَبَّرَ فَانْتَہَضَ قَائِمًا )) [3] ’’ پھر انھوں نے تکبیر کہی اور سیدھے کھڑے ہوگئے۔‘‘ لیکن یہ حدیث اپنی سند کے ایک راوی شہر بن حوشب کے کثیر الارسال و الاوہام ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ بعض آثار: جلسۂ استراحت کی نفی یا عدمِ استحباب و عدمِ مشروعیّت پر بعض آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور اقوالِ تابعین رحمہم اللہ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ اگر آثار کا انبار بھی لگا دیا جائے تو ’’سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی اتّباع ہی اولیٰ ہے۔ ہاں یہ جلسۂ استراحت فرض یا واجب نہیں کہ جس کے ترک سے نماز کی صحت پر حرف آتا ہو۔ بلکہ یہ مشروع و مستحب ہے۔ [1] سبل السلام (۱/ ۱/ ۱۸۳) و البیہقي۔ [2] سنن أبي داوٗد مع العون (۲/ ۴۳۳) سنن الترمذي مع التحفۃ (۲/ ۱۳۴) سنن الدارقطني، المنتقیٰ مع النیل (۲/ ۳/ ۹۶۔ ۹۷) [3] سنن الترمذي (۲/ ۱۶۸، ۱۶۹) تحقیق زاد المعاد (۱/ ۲۴۰) سنن البیھقي (۲/ ۱۲۴) نصب الرایۃ (۱/ ۳۸۹) [4] فتح الباري (۲/ ۳۰۳)