کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 272
مسند احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’اور جب اُٹھے تو اپنی رانوں پر ٹیک لگا کر گھٹنوں کے بل سیدھے ہی اٹھ گئے۔‘‘[1] مسند بزار میں ہے: ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں سے فارغ ہوتے تو سیدھے ہی کھڑے ہو جاتے تھے۔‘‘[2] اس حدیث کو محدّثینِ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے، حتیٰ کہ اسے روایت کر کے خود امام ترمذی، نسائی، دارقطنی اور بیہقی نے اس کی سند پر کلام کیا ہے، لہٰذا اس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ استدلال نہیں ہے۔ 2- ان کا استدلال ایک دوسری حدیث سے بھی ہے جو ترمذی، بیہقی و سنن سعید بن منصور میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: (( کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَنْہَضُ فِی الصَّلٰوۃِ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ )) [3] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پاؤں کے پنجوں کے بل پر سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے۔‘‘ اس حدیث کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس (یا ایاس) ہے جسے خود امام ترمذی و بیہقی نے اور تمام محدّثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابنِ حجر نے اسے سنن سعید بن منصور کی طرف منسوب کر کے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔[4] [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱۱/ ۳۶) [2] مشکاۃ المصابیح (۱/ ۲۴۶) [3] فتح الباري (۲/ ۳۰۲) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۱۱۸) المغني (۱/ ۲۱۳) زاد المعاد (۱/ ۲۴۰، ۲۴۱)