کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 266
طریقے کے علاوہ ایک دوسرا انداز بھی مروی ہے کہ نمازی کبھی کبھی اپنے دونوں پاؤں جوڑ کر کھڑے رکھے اور ان کی ایڑیوں پر (اقعاء)بیٹھے۔ چنانچہ صحیح مسلم، ابو داود و ترمذی، بیہقی اور ابنِ خزیمہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ طاؤس رحمہ اللہ نے ان سے اقعاء کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’یہ سنت ہے۔‘‘ ہم نے ان سے کہا: یہ تو پاؤں پر ظلم لگتا ہے، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’نہیں، یہ تمھارے نبی کی سنت ہے۔‘‘[1] امام ابنِ خزیمہ نے اپنی صحیح میں ایک باب ہی یوں قائم کیا ہے کہ ’’دو سجدوں کے مابین اقعاء کے جائز و مباح ہونے کا بیان‘‘ اور یہ بھی مباح اختلاف کی قبیل سے ہے کہ نمازی کے لیے یہ جائز ہے کہ کبھی کبھار دونوں سجدوں کے درمیان اپنے قدموں کو کھڑا کر کے ان کے اوپر بیٹھ جائے اور چاہے تو بائیں کو بچھا لے اور دائیں کو کھڑا کر لے۔ پھر انھوں نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو حمید رضی اللہ عنہ والی دونوں احادیث روایت کی ہیں۔[2] الغرض اس اقعاء کو جائز مانتے ہوئے بھی نمازی کو اکثر اوقات عمل دوسرے طریقے پر ہی کرنا چاہیے، جس میں بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں کو کھڑا رکھا جاتا ہے، کیوں کہ وہ کثرتِ رواۃ کی وجہ سے افضل ہے، نمازی کے لیے آسان بھی ہے اور ہیئت و صورت کے اعتبار سے بھی اچھا نظر آتا ہے، البتہ جائز یہ بھی ہے۔ اس جلسہ میں وجوبِ اطمینان: جلسہ بَین السجدتین کے سلسلے میں گفتگو کے آغاز ہی میں ہم صحیحین و سننِ اربعہ، [1] ابن خزیمۃ (۱/ ۳۳۷) التلخیص (۱/ ۱/ ۲۵۷) مشکاۃ (۱/ ۲۵۰) [2] صفۃ الصلاۃ (ص: ۸۹) التلخیص (۱/ ۱/ ۲۶۰) [3] صفۃ الصلاۃ (ص: ۸۹)