کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 259
کر لیا اور جنت پائی، مجھے سجدے کا حکم ہوا اور میں نے انکار کیا جس سے میرا ٹھکانا جہنم ہو گیا ہے۔‘‘[1] 3- رفاقتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم : سجدے کی ادائیگی جہاں انسان کے لیے ذریعۂ نجات و باعثِ جنت ہے، وہیں سجدے کی وجہ سے قیامت کے روز رفاقتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضمانت بھی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم و نسائی، ابو عوانہ و بیہقی، شرح السنہ و مسند احمد میں حضرت ربیعہ بن کعب سُلَمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو ’’اصحابِ صفہ ‘‘ میں سے تھے اور سفر و حضر میں اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ تہجد کے لیے اُٹھے تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’(اے ربیعہ!) کچھ مانگو!‘‘ میں نے عرض کی: ’’جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اور کچھ؟ جب تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اور میں نے اُسی ایک ہی چیز کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے اس مطالبے کے حصول کے لیے سجدوں کی کثرت کے ساتھ میری مدد کرو۔‘‘[2] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے کثرتِ سجود کے ساتھ تعاون کا مطالبہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کوئی ڈاکٹر یا حکیم یا طبیب اپنے مریض سے کہے کہ حصولِ شفا کے لیے [1] صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۲۰۰) سنن البیھقي (۲/ ۱۱۰) شرح السنۃ (۳/ ۱۵۱) الإحسان (۵/ ۲۵۵) تحقیق صلاۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۲۸۹)