کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 257
ایسے ہی امام مسروق، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہم اللہ اور جمہور علمائے اُمت کے نزدیک یہ بار بار جگہ برابر کرنا مکروہ ہے۔[1] اسی سے ملتی جلتی صورت نماز میں اپنے سامنے مٹی یا ریت وغیرہ پر پھونک مارنے کی بھی ہے کہ ایک آدھ مرتبہ ایسا کر لے، بار بار نہیں۔[2] 4 سجدے میں وجوبِ اطمینان: سجدے سے متعلق چوتھی بات یہ بھی پیشِ نظر رکھی جائے کہ سجدے کو پورے اطمینان و سکون سے ادا کرنا واجب ہے، کیوں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود کے اِتمام کا حکم فرمایا کرتے تھے اور جلدی جلدی ٹکریں مارنے والے کی مثال اس بھوکے شخص سے دیا کرتے تھے جو صرف دو ایک کھجور کھاتا ہے جس سے اس کی بھوک میں کوئی فرق نہیں آتا۔ جلدی جلدی رکوع و سجود کی بے قرار سی ادائیگی کرنے والے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بدترین چور‘‘ قرار دیا ہے اور جو شخص رکوع و سجود میں اپنی کمر کو اچھی طرح سیدھا نہیں ٹھہراتا ، اس کی نماز کے باطل ہونے کا حکم بھی فرمایا ہے۔ نماز اچھی طرح سے نہ پڑھنے والے اعرابی کو سجود بھی پورے اطمینان کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور ان پانچوں امور سے متعلقہ احادیث ہم ’’رکوع میں وجوبِ اطمینان ‘‘ کے ضمن میں بیان کر آئے ہیں، اس لیے انھیں یہاں پھر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ 5 فضائلِ سجدہ: سجدے سے تعلق رکھنے والے امور میں سے پانچویں بات سجدے کا مقام و مرتبہ اور فضیلت و اہمیت ہے۔ [1] المنتقیٰ مع النیل (۲/ ۳/ ۲۰۵) [2] النیل (۲/ ۳/ ۲۰۶)