کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 256
3 کنکریوں وغیرہ کو برابر کرنے کی ممانعت: نماز کے دوران میں سجدے سے تعلق رکھنے والے مسائل کے ضمن ہی میں ایک تیسری بات یہ بھی ذکر کرتے جائیں کہ اگر کسی ایسی جگہ پر نماز پڑھنے کی نوبت آجائے، جہاں کنکریاں وغیرہ ہوں تو انھیں نماز سے پہلے اچھی طرح سے ہموار کر لیں، یا پہلے سجدے کے وقت صرف ایک بار برابر کر کے سجدے کے لیے ہموار کر لیا جائے۔ ہر سجدے کے وقت ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے: 1- صحیحین و سننِ اربعہ اور مسندِ احمد میں حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی جگہ والی مٹی کو برابر کرنے والے آدمی سے مخاطب ہو کر فرمایا: (( وَاِنْ کُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَۃً )) [1] ’’اگر ضرور برابر کرنا ہی ہے تو بس صرف ایک مرتبہ کر لو۔‘‘ 2- صحیح مسلم و ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بھی ایک حدیث ایسی ہی ہے۔ (بحوالہ سابقہ) 3- صرف ان دو پر ہی بس نہیں بلکہ سننِ اربعہ و مسند احمد میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی ایک حدیث مروی ہے۔ 4- مسند احمد و مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک چوتھی حدیث بھی ہے۔ 5- نیز مسند احمد و مصنف ابن ابی شیبہ ہی میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی پانچویں حدیث بھی ہے۔[2] غرض مذکورہ صحیح و حسن درجے کی احادیث کے پیشِ نظر حضرت عمرِ فاروق و جابر رضی اللہ عنہما ، [1] صحیح البخاري (۲/ ۴۹۲) المنتقیٰ مع النیل (۲/ ۳/ ۱۰۵) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۳۶) [2] حوالہ سابقہ از صحیح بخاري و نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۱۰۷) [3] مصنف (۱/ ۳۰۰۔ ۳۰۱)