کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 254
کے ساتھ خاص نہ ہونے کی تصریح امام عراقی نے کی ہے، جیسا کہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے ان سے نقل کیا ہے (بالوں کو کھلا چھوڑنا مَردوں کے ساتھ خاص ہے) عورتیں اس حکم میں شامل نہیں، کیوں کہ ان کے بال نماز میں ستر ہیں جن کا ڈھانپنا واجب ہے۔ اگر وہ انھیں کھول کر لٹکتا چھوڑ دیں گی تو ان کا ستر اور ڈھانپنا مشکل ہو جائے گا۔ 2- پگڑی یا ٹوپی پر سجدہ: جس شخص نے عمامہ یا پگڑی باندھی ہوئی ہو اور اس کی ٹوپی، پگڑی یا رومال نے اس کی پیشانی کو بھی ڈھانپ رکھا ہو تو کیا وہ اسی طرح اس پر سجدہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں اہلِ علم کی دو الگ الگ آرا ہیں اور ہر دو نے اپنی اپنی رائے کی تائید کے لیے کچھ روایات و آثار بھی پیش کیے ہیں۔ قائلینِ جواز اور ان کے دلائل: جواز کے قائلین میں سے عبدالرحمن بن یزید، سعید بن مسیب، حسن بصری، ابوبکر مزنی، مکحول، زہری، امام ابو حنیفہ اور جمہور اہلِ علم رحمہ اللہ ہیں، جن کے آثار امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں روایت کیے ہیں۔[1] امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان بھی جواز کی طرف ہے، چاہے کسی عذر کے پیشِ نظر ہی کیوں نہیں۔[2] 1- اس کی دلیل صحیحین و سننِ اربعہ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے، جس میں وہ بیان فرماتے ہیں: ’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم [1] مصنف ابن أبي شیبۃ، نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۰۸) مجمع الزوائد (۲/ ۱۲۸۔ ۱۲۹) [2] حوالہ سابقہ۔ [3] حوالہ سابقہ۔