کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 251
دونوں پاؤں کو ملانا: عموماً سجدے کے وقت دونوں پاؤں کو ایک دوسرے سے الگ ہی رکھا جاتا ہے، جبکہ ایک حدیث سے پتا چلتا ہے کہ دورانِ سجدہ پاؤں کھڑے ہوں اور ان کی ایڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں تو بھی حرج نہیں، بلکہ یہ انداز بھی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ، مستدرک حاکم، معانی الآثار طحاوی اور سنن کبریٰ بیہقی کے حوالے سے سابق میں ذکر کی گئی حدیث میں اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اپنے بستر پر نہ پایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سجدے میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ایڑیاں ملائی ہوئی تھیں اور دونوں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُو تھیں۔‘‘ [1] صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۳۲۸) مستدرک حاکم (۱/ ۲۲۸) سنن البیھقي (۲/ ۱۱۶) صفۃ الصلاۃ (ص: ۸۳) مشکاۃ (۱/ ۲۸۱)