کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 245
’’تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو خوب درست ہو کر رہے اور کتے کی طرح زمین پر کلائیاں نہ بچھائے۔‘‘[1] ایسے ہی صحیح ابن حبان و مصنف عبدالرزاق، ابن خزیمہ اور معجم طبرانی کبیر، المختارہ للضیاء اور مستدرک حاکم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جانور کی طرح زمین پر بازو نہ بچھاؤ۔ اپنی ہتھیلیوں کے بل پر رہو اور بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمھارے ہر عضو کا سجدہ ہوگا۔‘‘[2] (( اِدَّعِمْ عَلٰی رَاحَتَیْکَ )) ’’اپنی ہتھیلیوں کے بل پر ٹیک لگاکر رکھو‘‘ کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ صحیح ابن حبان و بیہقی، ابن خزیمہ و مسند احمد میں حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور مصنف ابن ابی شیبہ میں موقوفاً مروی ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں کے انگوٹھوں اور چھنگلیوں کے جوڑوں والے حصوں (گبیوں) پر سجدہ کرتے تھے۔‘‘[3] ان سب احادیث کا مجموعی مفاد یہ ہے کہ سجدے کے دوران میں نمازی اپنے بازوؤں اور کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر رکھے، بچھائے نہیں۔ بچھانے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے پاؤں بچھانے سے تشبیہ دے کر اس کی قباحت واضح فرما دی ہے۔ [1] صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۲۱۱۔ ۲۱۲) صحیح ابن ماجہ (۱/ ۱۴۵) صحیح أبي داوٗد (۱/ ۱۶۹) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۲۸۱) شرح السنۃ (۳/ ۱۴۵۔ ۱۴۶) فتح الباري (۲/ ۲۹۴) [2] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۱) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۲۰۹، ۲۱۰) ترمذي (۲/ ۱۵۱) سنن أبي داود (۲/ ۱۶۶) تخریج صلاۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۲۸۸)