کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 244
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو بازؤوں کو پہلؤوں سے الگ رکھتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی پیچھے سے دیکھی جا سکتی تھی۔‘‘ اور دوسری حدیث میں یہاں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’حتیٰ کہ اگر بکری کا بچہ بھی چاہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤںکے نیچے سے گزر سکتا تھا۔‘‘[1] زمین پر نہ بچھانا بلکہ اٹھا کر رکھنا: جس طرح یہ ضروری ہے کہ بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھا جائے ، اسی طرح، بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ بوقتِ سجدہ بازوؤں کو زمین پر ہر گز نہ بچھایا جائے، کیوں کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیحین و سننِ اربعہ، دارمی و ابو عوانہ اور مسند طیالسی میں حضرت اَنس رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِعْتَدِلُوْا فِی السُّجُوْدِ، وَلَا یُبْسِطْ اَحَدُکُمْ ذِرَاعَیْہِ اِنْبِسَاطَ الْکَلْبِ )) [2] ’’سجدوں میں خوب سیدھے رہا کرو اور کتے کی طرح اپنی کلائیاں زمین پر نہ بچھایا کرو۔‘‘ ترمذی و ابن ماجہ، ابن خزیمہ و شرح السنہ اور مسند احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
[1] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۵) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۲۴ واللفظ لہ) سنن البیھقي (۲/ ۱۱۶) شرح السنۃ (۳/ ۱۴۷) [2] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۵) سنن أبي داوٗد (۲/ ۴۲۴ و ۴۳۰) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۲۴) شرح السنۃ (۳/ ۱۴۷) سنن البیھقي (۲/ ۱۱۶)