کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 241
اور شرح معانی الآثار طحاوی میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب مدینہ منورہ آیا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا فرمانے کے طریقہ کو بغور دیکھوں گا۔ چنانچہ میں نے دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی۔ آگے طریقۂ نماز بتاتے ہوئے سجدے کے وقت ہاتھوں کے بارے میں وہ بیان فرماتے ہیں: (( ثُمَّ ہَوٰی، فَسَجَدَ فَصَارَ رَاْسُہٗ بَیْنَ کَفَّیْہِ )) ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھکے اور سجدہ کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ اقدس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں (ہاتھوں) کے درمیان تھا ۔‘‘ صحیح مسلم میں حضرت وائل رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے: ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو دونوں ہتھیلیوں کے مابین سجدہ کیا۔‘‘[1] اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ وہ لوگ جو بوقتِ سجدہ اپنے ہاتھوں کو سر سے بھی آگے گزار دیتے ہیں، ان کا یہ فعل صحیح نہیں ہے، پھر ایسا کرنے سے کلائیاں زمین پر لگ جاتی ہیں جو سخت منع ہے، جیسا کہ تفصیل آگے چل کر آنے والی ہے۔ إن شاء اﷲ 2- دورانِ سجدہ ہاتھوں کو کندھوں کے پاس (برابر) رکھنا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ سابق میں ذکر کی گئی ابو داود و ترمذی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، شرح السنہ اور دارمی و بیہقی میں مروی حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ والی معروف حدیث میں ہے: (( وَوَضَعَ کَفَّیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ )) ’’اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کندھوں کے برابر زمین پر رکھا۔‘‘ اس حدیث سے اس بات کا پتا بھی چل جاتا ہے کہ بعض لوگ جو اپنے گھٹنوں [1] سنن أبي داوٗد (۳/ ۱۶۴) و ابن خزیمہ (۱/ ۳۲۰) الفتح الرباني (۳/ ۲۷۶۔ ۲۷۷) الإروء (۲/ ۱۷۔ ۱۸) صفۃ الصلاۃ (ص: ۸۲) [2] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۵) و صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۳۲۴) وقد مرّ تخریجہ مفصّلا مراراً۔ الإرواء (۲/ ۱۳، ۸۱)