کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 236
امام مالک و احمد اور علامہ مقبلی و جونا گڑھی نے دونوں ہی کو برابر قرار دیا ہے، چاہے کسی کو بھی اختیار کر لیں۔[1] جب کہ بات دراصل یوں ہے کہ یہ اُس وقت ہوتا جب دونوں طرف کی احادیث صحیح ہوتیں، لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ ہم کچھ تفصیل بیان کر آئے ہیں کہ ہاتھ پہلے رکھنے والی احادیث صحیح ہیں اور گھٹنے پہلے رکھنے کا پتا دینے والی روایات ضعیف ہیں۔ 4- اس کے باوجودجمہور اہلِ علم اور بقول قاضی ابو الطیب کے عام فقہا نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔امام ابن المنذر نے حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ ، ابراہیم نخعی، مسلم بن یسار، ثوری، (ایک روایت میں) احمد بن حنبل، شافعی، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اور اہل الرائے (احناف) سے یہی مسلک نقل کیا ہے اور خود بھی اسے ہی اپنایا ہے۔[2] 5- گھٹنے پہلے رکھنے والی روایات کے ضُعف کے پیشِ نظر اور ہاتھ پہلے رکھنے والی احادیث کے صحیح ہونے کی بنا پر امام مالک ، اوزاعی، ایک روایت میں امام احمد اور جمہور اہلِ حدیث و محدّثین نے پہلے ہاتھ رکھنے کا مسلک اختیار کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے تو یہ بھی کہا ہے: ’’یہ انداز از روئے خشوع بہت اچھا ہے۔‘‘[3] ہمارے نزدیک ہاتھوں کا زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھنا ہی اولیٰ ہے۔ لیکن یہاں اس بات کی وضاحت کر دینا مناسب لگتا ہے کہ بعض اہلِ علم نے جو کہا ہے کہ ان دونوں طرح کی احادیث کو یوں جمع کر لیا جائے کہ قیام سے سجدہ کی طرف اس انداز سے جھکیں کہ جیسے آپ کے گھٹنے اور ہاتھ بیک وقت ہی زمین پر جا لگیں گے، لیکن [1] النیل (۱/ ۲/ ۲۵۳) [2] المجموع حوالہ سابقہ۔ [3] النیل (۲/ ۳/ ۹۹) الریاض دار المعارف (۱/ ۲/ ۲۸۳) طبع دارالافتاء الریاض أیضاً۔