کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 233
ا ۔ تردید نظریۂ ضُعف: اس حدیث کو کثیر کبار محدّثینِ کرام نے صحیح قرار دیا ہے جس کی تفصیل کے لیے شرح السنہ کی تحقیق از شیخ شعیب الارناؤوط (۳/ ۱۳۵) زاد المعاد کی تحقیق از شیخ شعیب الارناووط و شیخ عبدالقادر الارناؤوط (۱/ ۲۲۳)، إرواء الغلیل از شیخ البانی (۲/ ۷۸)، شرح المواہب زرقانی (۷/ ۳۲۰)، کما في الإرواء (۲/ ۷۸)، و تحقیق الاحسان (۵/ ۲۴۰)، المجموع شرح المہذب امام نووی (۳/ ۳۹۴) دیکھیں۔ علامہ عبدالرحمن مبارک پوری نے تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا کم از کم حسن لذاتہٖ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔[1] حافظ عبدالحق اشبیلی کی الاحکام الکبریٰ سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، جبکہ ان کی دوسری کتاب ’’کتاب التّہجّد‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس حدیث سے سند کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے جس میں گھٹنے پہلے رکھنے کا ذکر آیا ہے۔[2] ب۔ تردید نظریۂ قلب و اضطراب: اس موضوع کے چار اور دلائل بھی ہیں جنھیں اختصار کے پیش نظر یہاں ذکر نہیں کررہے۔ اسی طرح ’’زاد المعاد‘‘ (۱/ ۲۲۳، ۲۳۱) علامہ ابن قیم کے نظریۂ قلب و اضطراب پر اہلِ علم کے تفصیلی تعاقب کو بھی چھوڑ رہے ہیں، کیوں کہ زاد المعاد کے محققین شیخ شعیب و عبدالقادر نے تحقیق زاد المعاد (۱/ ۲۲۳۔ ۲۳۰) میں، شیخ احمد شاکر نے تحقیق ترمذی (۱/ ۵۸۔ ۵۹) میں، علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ (۳/ ۱۳۸۔ ۱۳۹) میں اور علامہ البانی نے ’’صفۃ الصلاۃ‘‘ (ص: ۸۲) [1] شرح السنۃ (۳/ ۱۳۵) مسند أحمد (۲/ ۳۸۱) الفتح الرباني (۳/ ۲۷۶) سنن أبي داود (۳/ ۷۰) سنن الترمذي (۲/ ۱۳۶) سنن الدارقطني (۱/ ۱/ ۳۴۴) محلّٰی (۲/ ۴/ ۱۶۹) سنن البیھقي (۲/ ۹۹۔ ۱۰۰) الاعتبار (ص: ۷۹) مشکاۃ (۱/ ۲۸۲) الإرواء (۲/ ۷۸)