کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 232
سجدے کی رکنیت و فرضیت کا پتا سابق میں ذکر کی گئی اور انہی جیسی دوسری احادیث سے بھی چلتا ہے، جن میں امر کے صیغے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کا حکم فرمایا ہے۔ اس بات پر پوری اُمتِ اسلامیہ کا اجماع ہے کہ سجدہ نماز کا اہم ترین رکن و فرض ہے، جیسا کہ کتب شروحِ حدیث و فقہِ اسلامی میں مذکور ہے۔ سجدے میں جانے کی کیفیت: رکوع و قومہ اور ان کے اذکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جاتا ہے ، جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مرّوج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے ازروئے دلیل کون سا انداز قوی اور صحیح تر ہے، اس بات کا پتا لگانے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل: تو آئیے پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل دیکھیں: التاریخ الکبیر للبخاری، ابو داوٗد، نسائی، مشکل الآثار و شرح معانی الآثار، دارمی، دارقطنی، بیہقی، محلیّٰ ابن حزم، شرح السنۃ بغوی، کتاب الاعتبار للحازمی اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اِذَا سَجَدَ اَحَدُکُمْ فَلَا یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیْرُ وَلْیَضَعْ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ ))[1] ’’جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے، جیسے اونٹ بیٹھتا ہے، بلکہ اسے گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ رکھنے چاہئیں۔‘‘ [1] قد مرّ و انظر صحیح البخاري (۲/ ۲۷۷) مشکوٰۃ (۱/ ۲۴۶) فقہ السنۃ (۱/ ۱۳۲)