کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 229
کی تاکید اور امام سے سبقت کرنے کی وعید اور قومہ وغیرہ میں اطمینان و سکون جیسے اُمور میں کوتاہی منفرد سے سرزد ہو یا امام و مقتدی سے، سبھی کے لیے نازیبا و نادرست ہے۔ ایسی جلدی جلدی میں کی گئی عبادت میں سرور کہاں سے آئے گا۔ ایسی نماز تو روحانیت کے جوہر سے عاری محض چند مشینی سی حرکات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے افعال کا ارتکاب کرنے والے نمازیوں سے مخاطب ہو کر علامہ اقبال نے کہا تھا: ؎ تیری نماز بے سرور، تیرا امام بے حضور ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر! قومہ میں ہاتھوں کی کیفیت: بعض لوگ رکوع سے اٹھ کر رفع یدین کرنے کے بعد قومہ میں ہاتھوں کو نیچے چھوڑنے کے بجائے اسی طرح باندھ لیتے ہیں، جس طرح پہلے انھوں نے قیام میں باندھے ہوئے ہوتے ہیں اور ہمارے پاک و ہند والے لوگ انھیں بڑے تعجّب آمیز انداز سے دیکھتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے، بلکہ بعض کبار علما و مفتیانِ کرام نے ایسا کرنے کا کہا ہے، جن میں سے سماحۃ الشیخ علامہ ابن باز رحمہ اللہ جیسے کبار علمائے حجاز بھی ہیں اور ان کا استدلال انہی سب احادیث سے ہے، جن میں دورانِ قیام ہاتھ باندھنے کا حکم آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح نماز میں رکوع کے وقت ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور سجود میں ہاتھوں کا زمین پر رکھنا احادیثِ شریفہ میں آیا ہے، اسی طرح کھڑے ہونے یا قیام کی حالت میں ہاتھوں کا باندھنا آیا ہے اور وہ کھڑے ہونا قیام میں ہو یا قومہ میں، دونوں اوقات میں کھڑے ہی تو ہوا جاتا ہے۔ لہٰذا قیام میں ہاتھ باندھنے والی احادیث سے قومہ میں بھی ہاتھ باندھنا اخذ کیا گیا ہے۔ اپنے اس موقف کی تائید میں انھوں نے جو دلائل ذکر کیے ہیں، وہ ان کے ’’ثلاثُ رسائل في الصَّلاۃ‘‘ میں شامل تیسرے رسالے ’’أَیْنَ یَضَعُ الْمُصَلِّی [1] صحیح البخاري (۲/ ۱۸۱۔ ۲۳۲۔ ۲۹۵) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۹۰) شرح السنۃ للبغوي (۳/ ۴۱۳) [2] شرح مسلم للنووي (۲/ ۴/ ۱۹۱)