کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 226
ہیں، جبکہ امام ابھی سیدھا کھڑا بھی نہیں ہوا ہوتا، بلکہ وہ اس کے رکوع سے اٹھنے کا اشارہ پاتے ہی جھٹ سے سیدھے ہو جاتے ہیں۔ یہ فعل بالخصوص ان لوگوں سے سرزد ہوتا ہے جو یا تو امام کے قریب کھڑے ہوں یا پھر انھیں دورانِ نماز اِدھر اُدھر جھانکنے کی عادتِ قبیحہ ہو۔ ایسے لوگوں کو اللہ کی بے آواز لاٹھی سے ڈرنا چاہیے، کیوں کہ امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے یا رکھنے پر بڑی سخت وعید آئی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم اور شرح السنہ بغوی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے نہیں ڈرتا کہ جب وہ امام سے پہلے (رکوع و سجدہ سے) سر اٹھا لیتا ہے، تو ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے یا اس کی صورت کو مسخ کر کے اسے گدھے کی صورت دے دے۔‘‘ یہ بخاری شریف کے الفاظ ہیں، جبکہ صحیح مسلم میں بھی ایک روایت میں سر کا، اور دوسری میں شکل و صورت کا ذکر آیا ہے اور تیسری کے آخر میں ہے: (( أَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ وَجْہَ حِمَارٍ )) [1] ’’اللہ کہیں اس کے چہرے کو گدھے کا چہرہ نہ بنا دے۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباري‘‘ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کا ظاہر اس بات کا متقاضی ہے کہ امام سے پہلے سر اٹھا لینا حرام ہے، کیوں کہ اس فعل پر شکل و صورت کے مسخ کیے جانے کی وعید آئی ہے جو سخت ترین سزا ہے۔ البتہ اس حرمت والے قول کے باوجود جمہور کا قول یہ ہے کہ اُس شخص کی نماز تو ہو جائے گی لیکن وہ سخت گناہ گار ہو گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے تو مروی ہے کہ اس کی نماز ہی باطل ہو [1] شرح السنۃ (۳/ ۹۶۔ ۹۹) رد المحتار ابن عابدین (۱/ ۳۲۵، ۳۲۶)