کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 220
قومہ قومہ کی کیفیت: جب نمازی سکون و اطمینان کے ساتھ رکوع میں ملکوتی تسبیحوں کے پھول بارگاہِ لم یزل میں پیش کر لے تو ’’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ‘‘ کہتے ہوئے کھڑا ہو جائے اور کھڑے ہو کر اس قومہ میں ’’رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ‘‘ کہے، جس کا حکم تکبیراتِ انتقال والا ہی ہے کہ حنابلہ کے نزدیک واجب اور دیگر تمام ائمہ کے نزدیک یہ مسنون ہے۔ رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین : رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے بھی رفع یدین کرنا صحیح احادیث سے ثابت و مسنون عمل ہے۔ لہٰذا جو نمازی اِس سنت پر عمل کرنا چاہے، وہ رفع یدین کرتا ہوا رکوع سے سر اٹھائے۔ اس رفع یدین کی سنیّت کی تمام تر تفصیلات الگ کتابی شکل میں چھپ چکی ہیں اور اس کا خلاصہ ہم سابق میں رفع یدین کے ضمن میں ذکر کر چکے ہیں، لہٰذا انھیں بھی یہاں دہرانا تحصیلِ حاصل ہے، اس لیے ہم یہاں ان سے صرفِ نظر کر رہے ہیں کہ یہ رفع یدین متواتر ہے۔ قومہ کے اَذکار: اب رہے قومہ کے اَذکار تو اس موقع کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد اَذکار ثابت ہیں۔ مثلاً: پہلا ذکر تو وہی ہے جو معروف ہے: (( رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ))۔ اِس ذکر کا ثبوت صحیح بخاری و مسلم، سننِ اربعہ (سوائے ابن ماجہ)، بیہقی و ابی عوانہ اور موطا امام مالک