کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 211
کہ رکوع کی حالت میں کمر اور سر کی کیا کیفیت ہونی چاہیے؟ اس سلسلے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے ’’باب استواء الظہر في الرکوع‘‘ ’’یعنی رکوع میں کمر کو برابر و سیدھا رکھنے کے بیان میں‘‘ ترجمۃ الباب کے طور پر حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا ہے، جس میں وہ اپنے دیگر ساتھیوں کو کہتے ہیں: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور اپنی کمر مبارک کو پوری طرح سیدھا جھکا دیا۔‘‘[1] اس کی مزید وضاحت سنن ابن ماجہ، معجم طبرانی صغیر و کبیر اور زوائد مسند امام احمد کے ان الفاظ سے ہو جاتی ہے، جن میں حضرت علی ، ابن عباس، انس، وابصہ بن معبد، ابو برزہ اسلمی اور عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (( حَتّٰی لَوْ صُبَّ عَلَیْہِ الْمَائُ لَاسْتَقَرَّ )) [2] ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر پر (رکوع کی حالت میں) پانی بہایا جائے تو وہ بھی (گرنے نہ پائے بلکہ) اوپر ٹھہرجائے۔‘‘ اب بات رہ جاتی ہے سر کی کہ اُسے کس طرح رکھنا ضروری ہے؟ جبکہ اس کے معاملے میں کافی کوتاہی دیکھنے میں آتی ہے۔ بعض لوگ سر کو بہت زیادہ جھکائے ہوئے بلکہ گھٹنوں میں دبائے ہوئے نظر آتے ہیں اور بعض دوسرے کمر کو سیدھا نہ کرنے پر مستزاد یہ کہ سر کو بھی بہت اٹھائے ہوتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں انداز ہی غیر صحیح ہیں، بلکہ رکوع کی حالت میں کمر کی طرح سر بھی نہ زیادہ جھکا ہوا اور نہ ہی زیادہ اٹھا ہوا ہو، اسے کمر کی سیدھ ہی میں رکھنا چاہیے، کیوں کہ سنن ابی داود، ترمذی، ابن ماجہ، [1] صحیح البخاري مع الفتح (۲/ ۲۷۳) سنن أبي داود مع العون (۳/ ۱۱۸۔ ۱۱۹) سنن الترمذي مع التحفۃ (۲/ ۱۱۵) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۰۱) عن عبد االلّٰه بن مسعود رضی اللہ عنہ (۱/ ۳۰۲) عن مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ ، المنتقیٰ (۱/ ۲/ ۲۴۴) طبع بیروت۔ [2] ابن خزیمۃ (۱/ ۳۰۳) و المنتقی (۱/ ۲/ ۲۴۳ و ۲۴۴) [3] صحیح أبي داوٗد (۱/ ۱۴۱) سنن الترمذي (۲/ ۱۱۷) و صفۃ الصلاۃ للألباني (ص: ۷۳) سنن الترمذي مع التحفۃ (۲/ ۱۱۷) سنن البیھقي (۲/ ۷۳) مشکاۃ (۱/ ۲۵۱ و صححہ)