کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 203
کے خوف سے یہاں نظر انداز کر رہے ہیں۔[1] ائمہ حدیث و فقہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے جزء اور امام سبکی رحمہ اللہ نے اپنے جزء میں، اسی طرح امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے کہ تمام ائمہ حدیث رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے قائل تھے، صرف اہلِ کوفہ نے اس سے اختلاف کیا ہے، جبکہ اہلِ کوفہ میں سے بھی امام ابن المبارک رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب رفع یدین کے قائل و فاعل تھے۔ ایسے ہی ائمہ مجتہدین کی بھی اکثریت اس کی قائل و فاعل رہی ہے، جیسا کہ آغازِ موضوع میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے۔ گیارہ علمائے احناف: بعض کبار علما و فقہائے احناف بھی اس رفع یدین کے قائل و فاعل گزرے ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل ائمہ و علما ہیں: 1- امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے دو معروف شاگردوں میں سے امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ملازمِ صحبت عصام بن یوسف۔ (الفوائد البہیۃ في تراجم الحنفیۃ، ص: ۱۱۶، بحوالہ صفۃ صلاۃ االنبی ﷺ، ص: ۲۱، ۲۲، ۷۳ و التحقیق الراسخ حضرت العلام حافظ محمد محدّث گوندلوی، ص: ۱۵۷) 2- اسلامیانِ برصغیر کے مشترکہ بزرگ شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی۔ (حُجّۃ اللّٰہ البالغۃ: ۲/ ۸ عربی و ص: ۳۱۸ اردو ترجمہ از مولانا عبدالحق حقانی، طبع دار الاشاعت، کراچی) [1] تفصیل کے لیے دیکھیں: ہماری کتاب ’’رفع الیدین۔۔۔‘‘ زیرِ عنوان ’’آثارِ خلفا و صحابہy‘‘ جو ہماری ویب سائیٹ پر فری ڈاؤن لوڈ کے لیے موجود ہے۔ [2] جزء إمام بخاري (ص: ۳۴، ۴۸، ۴۹، ۵۶، ۶۹) نیز دیکھیں: مصنف ابن أبي شیبۃ (۱/ ۲۳۵) المحلّیٰ (۴/ ۸۹) نصب الرایۃ (۱/ ۴۱۶) الداریۃ (۱/ ۱۵۴) التلخیص (۱/ ۲۲۰۱)