کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 178
5- چنانچہ حضرت جابر و اَنس اور بریدہ رضی اللہ عنہم کی روایت جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں (( أَفَتَّانٌ اَنْتَ یَامُعَاذُ؟ )) کہا تھا کہ ’’اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟‘‘ اسی حدیث میں یہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے: ’’جب لوگوں کو امامت کراؤ تو ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ اور ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ اور ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ پڑھا کرو۔‘‘ صحیح ابن خزیمہ میں’’ اللیل ‘‘اور’’الاعلیٰ‘‘ کے ساتھ سورۃ البروج کا ذکر بھی آیا ہے۔ نمازِ تہجد یا قیام اللیل: 1- صحیح مسلم و نسائی میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’میں نے ایک رات نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ تہجد پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ شروع کی تو میںنے سوچا کہ سو آیات پڑھ کر رکوع کریں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے پڑھنے لگے، میں نے سمجھا کہ دو رکعتوں میں پوری سورۃ البقرہ پڑھیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے پڑھنا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء شروع کی اور پوری سورۃ النساء پڑھی اور پھر سورت آل عمران شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کی۔ جب آیتِ تسبیح پر پہنچتے تو تسبیح بیان کرتے، جب آیتِ سوال سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب آیتِ تعوّذ سے گزرتے تو تعوّذ (اعوذ باللہ) پڑھتے تھے، پھر اس طویل قراء ت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔‘‘[1] [1] المنتقی (۲/ ۳/ ۷۵) و صفۃ الصلاۃ۔ [2] سنن الترمذي (۲/ ۲۲۴) الفتح الرباني (۳/ ۲۳۰) [3] صحیح البخاري (۲/ ۲۵۰) نسائي (۱/ ۲۱۶) الفتح الرباني (۳/ ۲۳۰) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۸۱) ابن خزیمۃ (۱/ ۲۶۴)