کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 177
نمازِ عشا: اب رہا معاملہ نمازِ عشا کا تو اس سلسلے میں سنن نسائی و مسند احمد اور ابن خزیمہ میں بسند صحیح ثابت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اوسطِ مفصّل پڑھا کرتے تھے۔ 1- چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشا کی پہلی دو رکعتوں میں اوسطِ مفصّل پڑھا کرتے تھے۔‘‘[1] 2- ترمذی و مسند احمد میں حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشا میں ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ اور ایسی ہی دیگر سورتیں پڑھا کرتے تھے۔‘‘[2] 3- صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ سنن نسائی میں حضرت ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازِ عشا پڑھی تو انھوں نے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ یعنی سورت انشقاق پڑھی ۔ 3- صحیح بخاری و مسلم، نسائی، ابن خزیمہ اور مسند احمد میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا میں دو رکعتوں میں سے ایک (اور نسائی میں ہے کہ پہلی) رکعت میں سورۃ التین پڑھی۔‘‘[3] نمازِ عشا کی قراء ت کے سلسلے میں صحیح بخاری و مسلم، ابو داود، سنن نسائی، بیہقی، صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اور بعض دیگر کتبِ حدیث میں چند دوسری سورتوں کا تذکرہ بھی آیا ہے۔ [1] صفۃ الصلاۃ (ص: ۶۴) مجمع الزوائد (۱/ ۲/ ۱۲۱) [2] الفتح الرباني، منحۃ المعبود في ترتیب مسند الطیالسي، أبو داود۔ [3] صفۃ الصلاۃ وصححہ (ص: ۶۳) [4] ابن خزیمۃ (۱/ ۲۶۱) المنتقیٰ (۲/ ۳/ ۷۵) [5] صحیح النسائي (۱/ ۲۱۴) تحقیق مشکاۃ (۱/ ۲۶۶) صفۃ الصلاۃ۔ [6] تحفۃ الأحوذي (۲/ ۲۲۲) تحقیق مشکاۃ المصابیح (۱/ ۲۶۸۔۲۶۹)