کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 176
4- معجم طبرانی کبیر میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی دونوں رکعتوں میں آدھی آدھی کرکے سورۃ الانفال کی قراء ت فرمایا کرتے تھے۔[1] 5- مسند احمد و ابی داود طیالسی میں مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران میں سورۃ التین ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴾ کی تلاوت نمازِ مغرب کی دوسری رکعت میں کی۔[2] 5- صحیح ابن خزیمہ، معجم طبرانی کبیر اور المختارۃ للضیاء المقدسی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی طوالِ مفصّل اور کبھی اوساطِ مفصّل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھا کرتے تھے اور کبھی سورت محمد کی تلاوت فرماتے تھے۔[3] 6- جبکہ نسائی و مسند احمد اور ابن خزیمہ میں ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب میں کبھی کبھار قصارِ مفصّل بھی پڑھا کرتے تھے۔[4] نمازِ مغرب کی سنتیں: سنن ابو داود و ترمذی و نسائی، معجم طبرانی، مسند احمد، المختارۃ للضیاء المقدسی اور قیام اللیل مروزی میں ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب کی بعد والی دو سنتوں میں پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴾ اور دوسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ﴾ پڑھا کرتے تھے۔[5] ان سورتوں کے مغرب کے فرضوں سے تعلق رکھنے والی حدیث شرح السنہ بغوی و ابن ماجہ میں ہے اور ضعیف ہے۔[6] [1] صحیح البخاري (۲/ ۲۴۷) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۸۰) صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۹) صحیح النسائي (۱/ ۲۱۳) سنن أبي داود (۳/ ۲۷) و إشار إلیہ الترمذي (۲/ ۲۲۰) [2] صحیح البخاري (۲/ ۲۴۷) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۸۰) صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۹) صحیح النسائي (۱/ ۲۱۳) سنن أبي داود (۳/ ۲۷) و إشار الیہ الترمذي (۲/ ۲۲۰) [3] صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۶۰ وصححہ) الفتح الرباني (۳/ ۲۲۶) مجمع الزوائد (۱/ ۲/ ۱۲۰، ۱۲۱) صحیح النسائي (۱/ ۲۱۴)