کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 171
7- حضرت برّاء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نمازِ ظہر میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت لقمان اور سورۃ الذاریات پڑھیں۔ نمازِ ظہر کی آخری دو رکعتوں میں کبھی کبھی قراء ت کر لینا: کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کی آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے علاوہ تھوڑی سی قراء ت فرما لیتے تھے۔ اس بات کا اندازہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے ہوتا ہے: ’’ہم نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ ظہر کی تلاوت کا اندازہ کیا کرتے تھے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیات یعنی بقدر سورۃ السجدۃ تلاوت کرتے تھے (اور ایک روایت میں ہے:) اور ظہر کی آخری دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کا اندازہ اس سے آدھی آیات (یعنی پندرہ آیات) ہیں اور نمازِ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کی قراء ت اندازاً نمازِ ظہر کی آخری دو رکعتوں کی تلاوت کے برابر ہے جبکہ عصر کی آخری دو رکعتوں میں تلاوت کی مقدار اس سے آدھی ہوتی تھی۔‘‘[1] امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث پر یوں تبویب کی ہے: نمازِ ظہر و عصر کی آخری دو رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے علاوہ بھی کچھ قراء ت کرنے کی اباحت کا بیان۔ جبکہ بعض اہلِ علم (جیسے شیخ البانی رحمہ اللہ ) نے اس حدیث سے یوں استدلال کیا ہے کہ نمازِ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کا اندازہ تیس آیات بتایاگیا ہے یا سورۃ السجدہ کے بقدر اور سورۃ السجدہ بھی تیس آیات پر مشتمل ہے، [1] سنن أبي داود (۳/ ۲۱) سنن الترمذي (۲/ ۲۱۶۔ ۲۱۷) [2] سنن أبي داود (۳/ ۲۲) صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۷) [3] صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۷) [4] سنن الترمذي (۲/ ۲۱۷) صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۷) [5] ابن خزیمۃ (۱/ ۲۵۷) زاد المعاد (۱/ ۲۱۰) صحیح النسائي، النیل (۲/ ۳/ ۷۱) فتح الباري إشارتاً۔