کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 158
ایک حرکت مسلسل ہی ہو جسے نمازی نماز سمجھے رہے، بلکہ اس جواز پر عمل کر لے اور ارکانِ نماز کو اطمینان کے ساتھ اور مکمل طور پر ادا کرے۔ ’’فصاعداً‘‘ کی بحث پر نظر ثانی: بعض احادث ایسی بھی ہیں جن سے وجوبِ سورت کی طرف اشارہ ملتا ہے اور ان سے ہماری مراد وہ احادیث ہیں جن میں: (( لَا صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ))اور ان کے ہم معنیٰ الفاظ کے بعد ’’فَصَاعِدًا‘‘، ’’فَمَا زَادَ‘‘، ’’وَمَا تَیَسَّرَ‘‘ وغیرہ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ ان الفاظ سے وجوبِ زائد علی الفاتحۃ پر استدلال بھی کیا گیا ہے، جیسا کہ صاحبِ فتح الباری نے نقل کیا ہے۔[1] جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ معلول و شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف اور ناقابلِ حجت و استدلال ہیں، جس کی تفصیل ’’جـزء الـقراء ۃ إمام بخاري‘‘ (ص: ۲۰) مع ترجمہ اردو طبع ادارہ احیاء السنہ گھرجاکھ گوجرانوالہ۔ ’’التلخیص الحبیر‘‘ (۱/ ۱/ ۲۳۰) حافظ ابن حجر طبع و توزیع جامعہ سلفیہ فیصل آباد۔ ’’الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان‘‘ (۵/ ۸۷) بتحقیق شیخ ارناؤوط۔ ’’عون المعبود شرح أبي داود‘‘ (۳/ ۴۴) طبع مدنی۔ سنن ترمذی کا حاشیہ ’’العرف الشذی‘‘ (ص: ۱۵۰) علامہ انور شاہ کاشمیری۔ ’’کتاب القراء ۃ بیہقي‘‘ (ص: ۲۲۔ ۲۵) مترجم اردو طبع ادارۂ احیاء السنۃ گھرجاکھ۔ ’’تحقیق الکلام‘‘ (۱/ ۳۸) مبارک پوری طبع فاروقی کتب خانہ ملتان، میں دیکھی جا سکتی ہے۔ نئے نمازی، نو مسلم اور عاجز کے لیے قراء ت کا حکم: بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی آدمی بڑھاپے میں جاکر راہِ ہدایت پر آیا اور اس نے نماز شروع کی، جبکہ اسے سورۃ الفاتحہ اور دوسری کوئی سورت زبانی یاد نہیں [1] دُر منثور، سیوطي (۱/ ۳)