کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 156
گی اور اگر پڑھ لو تو بہترہے۔‘‘[1] صحیح بخاری کی اس حدیث پر بعض اہلِ علم (جیسے مولانا صفدر وغیرہ، احسن الکلام: ۲/ ۳۲) نے موقوف ہونے کا اعتراض کیا ہے، جبکہ علامہ بدر الدین عینی نے پہلے ہی اس اعتراض کو ردّ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس حدیث میں جو یہ الفاظ ہیں کہ جو کچھ ہمیں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایا اور جو کچھ آپ نے ہم سے مخفی رکھا۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جو کچھ وارد ہوا ہے وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل شدہ ہے۔ لہٰذا ان تمام امور کا حکم مرفوع کا ہوگا۔[2] علامہ عینی والی یہ بات حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں بھی ذکر فرمائی ہے۔[3] کتاب القراء ۃ بیہقی میں یہ حدیث موقوفاً بھی مروی ہے، لیکن وہاں الفاظ یہ ہیں : (( یُجْزیٰ فِی الصَّلاَۃِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَاِنْ زَادَ فَہُوَ اَفْضَلُ )) [4] ’’نماز میں سورۃ الفاتحہ کافی ہو جاتی ہے، لیکن اگر کوئی اور سورت یا کسی سورت کی کچھ آیات پڑھ لے تو یہ افضل ہے۔‘‘ تیسری دلیل: سنن دارقطنی، مستدرک حاکم اور کتاب القراء ۃ بیہقی میں مروی وہ حدیث بھی ہے، جس میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اُمُّ الْقُرْآنِ عَوْضٌ مِنْ غَیْرِہَا، وَلَیْسَ غَیْرُہَا عِوَضٌ مِنْہَا )) [5] [1] صفۃ الصلاۃ (ص: ۵۶) مشکاۃ (۱/ ۲۶۵) صحیح أبي داوٗد (۱/ ۱۵۰) و مع العون (۳/ ۱۱) ابن خزیمۃ (۱/ ۲۶۲، ۲۶۳) سنن البیھقي (۳/ ۱۱۷) الإرواء (۱/ ۳۲۸)