کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 151
’’ہیئاتِ نماز‘‘بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’قراء ت و آمین میں جہر (جہری نمازوں میں) اور سِر (سِرّی نمازوں میں)۔‘‘ [1] فریقِ ثانی: فریقِ اوّل یعنی بلند آواز سے آمین کہنے کی رائے رکھنے والوں کے برعکس فریقِ ثانی کا اختیار یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے نہیں بلکہ امام و مقتدی جہری نمازوں میں بھی سراً ہی آمین کہیں۔ اپنے اس مسلک کی تائید میں وہ بعض روایات بھی پیش کرتے ہیں، جنھیں ہم نے اس موضوع سے متعلق اپنی مستقل کتاب ’’آمین…‘‘ میں ذکر کر کے اُن کا قدرے تفصیلی تجزیہ کیا ہے، جس کا دو حرفی نتیجہ یہ ہے کہ وہ روایات از روئے سند و متن مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی دلیل نہیں بن سکتیں، لہٰذا از روئے قوتِ دلیل اس مسئلے میں فریقِ اول یعنی بلند آواز سے آمین کہنے کی رائے رکھنے والوں کا پلہ بھاری ہے۔[2] اس بنا پر ہمیں چاہیے کہ امام ہوں یا مقتدی ، جہری نمازوں (فجر و مغرب و عشا وجمعہ وغیرہ) میں بڑے خوبصورت انداز کے ساتھ قدرے بلند آواز سے آمین کہیں جو اپنے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی سنی جائے اور اس میں چیخ چنگھاڑ کی شکل بھی نہ ہو۔ یہی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، عملِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تعاملِ ائمہ و علمائے اُمّت ہے۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ۔ عورتوں کے لیے آمین بالجہر کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے: ا ۔ اگر صرف عورتیں ہی ہوں اور انھیں کوئی عورت ہی جماعت کروا رہی ہو تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مطلق احادیث کی رو سے وہ سب بھی امام کے ﴿ وَلَا الضَّالِّينَ [1] نصب الرایۃ (۱/ ۳۷۰، ۳۷۱) طبع المجلس العلمي۔ [2] عمدۃ القاري (۳/ ۶/ ۵۳) [3] عمدۃ القاري (۳/ ۶/ ۵۳) [4] معارف الحدیث (۳/ ۲۶۴) طبع لکھنؤ [5] بحوالہ آمین بالجہر گرجاکھی (ص: ۲۱۔۲۲) [6] إحیاء العلوم (۱/ ۱۵۴) [7] دُرِمختار حصفکی مترجم (۱/ ۲۳۰)