کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 145
فریقِ ثانی: رکوع میں مل جانے سے رکعت ہو جاتی ہے، یہ فریقِ ثانی کی رائے ہے۔ ان کا استدلال جن احادیث سے ہے، ان میں معروف چار ہیں اور ان میں سے بھی تین تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، جبکہ خود اُن کا اپنا فتویٰ و عمل یہ رہا ہے کہ رکوع پانے والے کی رکعت کو شمار نہیں کرتے تھے اور چوتھی حدیث حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو صحیح تو ہے، لیکن اپنے مقصود میں صریح نہیں بلکہ محتمل ہے۔ ان چاروں احادیث کی اسناد و متن پر ہم نے تفصیلی بحث اس موضوع سے متعلق اپنی مستقل کتاب میں کی ہے جسے اختصار کے پیشِ نظر یہاں ہم نقل نہیں کر رہے۔ اس طویل بحث کا نتیجہ یہی ہے کہ رکوع کی رکعت نہ شمار کرنے والوں کا پلڑا از روئے قوتِ دلیل بھاری ہے۔[1] لہٰذا از روئے دلیل اور از روئے احتیاط یہی بہتر ہے کہ ایسا موقع آجائے تو اس رکعت کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر پڑھ لیں۔ ایسے اختلافی امور میں اکمل (زیادہ کامل) شکل کو اختیار کرنا ہی اَحوط و اولیٰ ہے اور اکمل اس رکعت کا اٹھ کر پڑھنا ہی ہے۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ [1] التعلیق الممجد علی موطأ إمام محمد (ص: ۹۹ طبع کراچی) [2] السعایۃ (۲/ ۳۰۲) و إمام الکلام (ص: ۲۸۲)