کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 144
نہیں ہوئی اور اس سلسلے میں جتنی بھی احادیث ہیں وہ یا تو ’’لااصل‘‘ ہیں یا پھر وہ از روئے سند صحیح نہیں ہیں۔‘‘[1] ایسے ہی اپنی دوسری کتاب ’’السعایۃ‘‘ اور ’’إمام الکلام‘‘ میں لکھا ہے: ’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قراء تِ فاتحہ خلف الامام کی ممانعت کسی قابلِ اعتماد سند سے ہر گز ثابت نہیں ہے۔‘‘[2] مدرکِ رکوع کی رکعت: اس موضوع کو ختم کرنے سے پہلے اس سے متعلق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ شخص جو اُس وقت آ کر امام و جماعت سے ملے، جب امام رکوع میں جا چکا ہو تو اس مقتدی کی وہ رکعت شمار کی جائے گی یا نہیں؟ مدرکِ رکوع کی رکعت کا یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت اور کچھ محدّثینِ کرام و محقّقین عظام، جن میں امام بخاری رحمہ اللہ بھی شامل ہیں اور علمائے اہلحدیث کا کہنا ہے کہ اس کی وہ رکعت شمار نہیں ہوگی، کیوں کہ اس سے دو اہم اجزائے نماز چھوٹ گئے ہیں: 1- قیام، جو بالاتفاق نماز کا رکن ہے۔ 2- سورۃ الفاتحہ، جو نہ اس نے امام سے سنی اور نہ خود ہی پڑھی۔ نیز اس پر بھی اتفاق ہے کہ کسی رکن کے چھوٹ جانے سے نماز نہیں ہوتی، جبکہ رکوع میں ملنے والے کا رکنِ قیام ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی سورۃ الفاتحہ بھی چھوٹ گئی ہے، لہٰذا اس کی وہ رکعت کیسے شمار کی جائے گی؟ [1] تفصیل کے لیے ہماری کتاب ’’قراء ت سورۃ الفاتحہ۔۔۔‘‘ دیکھیں۔