کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 139
دہرائی جانے والی آیات آیا ہے اور امام و منفرد یا مقتدی کی کوئی تخصیص بھی نہیں ہے۔[1] 2- ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ ﴾ [المزّمّل: ۲۰] ’’قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھو۔‘‘ یہاں﴿ مَا تَيَسَّرَ ﴾ سے مراد سورۃ فاتحہ ہے، جیسا کہ امام بخاری و سیوطی اور دیگر اہلِ علم نے وضاحت کی ہے۔[2] 3- ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴾ [النجم: ۳۹] ’’ہر انسان کو اس کی سعی و کوشش ہی کام دے گی۔‘‘ نماز میں سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا چونکہ فرض ہے، لہٰذا یہی فرض مقتدی پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اگر وہ نہ پڑھے گا تو اس کا یہ فریضہ ادا نہ ہوگا۔[3] احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم : (1، 2) سورۃ الفاتحہ کی نماز میں ’’فرضیت‘‘ کے زیرِ عنوان حضرت عبادہ و ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی دو حدیثیں ذکر کی جا چکی ہیں۔ ان دونوں کا مفاد یہی ہے کہ مقتدی کو بھی سورۃ الفاتحہ پڑھنی چاہیے، جیسا کہ امام بخاری (صحیح البخاري ۲/ ۲۳۶، جزء القراء ۃ، ص: ۲۷)، علامہ کرمانی (تحقیق الکلام، ص: ۱۳)، علامہ قسطلانی (۲/ ۴۳۵ وتحقیق الکلام أیضاً)، علامہ قاسمی (تفسیر محاسن التأویل: ۷/ ۲۹۳۴)، امام ترمذی (سنن الترمذي مع التحفۃ ۲/ ۲۳۰)، [1] جزء القراء ۃ للإمام بخاري (ص: ۳۴) [2] جزء القراء ۃ للإمام البخاري (ص: ۳۴) شرح السنۃ (۳/ ۸۴، ۸۵) تفسیر القرطبي (۱/ ۱/ ۸۴۔ ۸۵) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۸/ ۱۵۶، ۱۵۷، ۳۰۸، ۳۸۱، ۹/ ۵۴) موطأ مع الزرقاني (۱/ ۱۷۲، ۱۷۴) ابن کثیر (۲/ ۵۵۷)