کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 138
2 تابعینِ عظام رحمہم اللہ میں سے حضرت حسن بصری، سعید بن جبیر، میمون بن مہران، مکحول، عروہ بن زبیر، شعبی، مجاہد، قاسم بن محمد، حماد اور عطاء رحمہم اللہ جیسے کبار ائمہ بھی قائلین قراء ت میں سے ہیں اور آخر الذکر دو امام تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اساتذہ میں سے ہیں۔[1] 3 نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمرِ فاروق، اُمّ المؤمنین عائشہ، علی المرتضیٰ، ابوہریرہ، ابی بن کعب، حذیفہ، عبادہ بن صامت، عبداللہ بن عمرو، ابو سعید خدری، ابن عباس، انس، ابنِ مسعود، جابر، ابن زبیر، ہشام بن عامر، خوات بن جبیر، عبداللہ بن مغفل، عثمانِ غنی، معاذ، ابو ایوب انصاری اور عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہم وجوبِ قراء ت کے قائل تھے۔[2] قائلین قراء ت خلف الامام کے دلائلِ قرآن و سنت: 1 ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ﴾ [الحجر: ۸۷] ’’اور (اے نبی !) ہم نے آپ کو سات آیات دی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم عنایت کیا ہے۔‘‘ صحیح بخاری میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’السبع المثاني‘‘ سے مراد سورۃ الفاتحہ ہونا ثابت ہے۔[3] کتبِ تفسیر و احادیث میں ’’المثانی‘‘ کا معنیٰ ہر نماز کی ہر رکعت میں بار بار [1] تفصیل اور اقوال و آراء کے لیے ہماری کتاب ’’قراء تِ سورۃ الفاتحہ‘‘ دیکھیں۔ [2] تفسیر قرطبي (۱/ ۱/ ۸۴، دار الکتب العلمیۃ بیروت) شرح السنۃ للبغوي بتحقیق الأرناؤوط (۳/ ۸۵) الإعتبار حازمي (ص: ۹۹)